سپریم کورٹ کا تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد کا نوٹس
- Get link
- X
- Other Apps
سپریم کورٹ کا تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد کا نوٹس
تاحیات ناہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجز بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوا دیا گیا، موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائےگا۔سپریم کورٹ
مقدس فاروق اعوان پیر 11 دسمبر 2023 13:26

Ahmed
درخواست میں الیکشن کمیشن ،وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن ایکٹ میں ترمیم کر کے تاحیات نااہلی کی مدت کو ختم کر پانچ برس کردیا گیا۔ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62 ایف ون کی پہلے ہی تشریح کر چکی ہے۔ سپریم کورٹ کی تشریح کے بعد قانون میں ترمیم کرنا آئین کے آرٹیکل 175 کے سیکشن 3 کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے اقدام کالعدم قرار دے۔ 30 نومبر2023ءکو لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن ایکٹ میں تاحیات نااہلی کے قانون میں ترمیم کرنے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت کے وکیل کو دلائل کے لیے مہلت دی تھی، ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے شہری مشکور حسین کی درخواست پر سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن ایکٹ میں ترمیم کر کہ تاحیات نااہلی کی مدت کو ختم کر پانچ برس کردیا گیا ہے ، سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62ایف ون کی پہلے ہی تشریح کر چکی ہے ۔استدعا ہے کہ عدالت الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے اقدام کالعدم قرار دے ۔وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل کے لئے مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کر لیا اور درخواست پر مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ۔
/span>
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment